وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز۔ — اے ایف پی/فائل
  • شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے شیڈول میں تبدیلی کے بعد وزیر اعظم شہباز اور وزیراعلیٰ حمزہ پر فرد جرم میں تاخیر
  • شہباز شریف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
  • پراسیکیوٹر استثنیٰ کی حمایت کرتا ہے کیونکہ اسے خود کیس کی تیاری کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

لاہور: وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم ہفتے کے روز ایک بار پھر اختلاف کا شکار ہو گئی کیونکہ نو تعینات پراسیکیوٹر نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا۔

واضح رہے کہ لاہور کی خصوصی عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے کو فرد جرم کے لیے آج طلب کیا تھا تاہم دونوں عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اس سے قبل منی لانڈرنگ کیس میں ملزمان کے خلاف 11 اپریل اور 27 اپریل کو کمرہ عدالت سے غیر حاضری کے باعث فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی تھی۔

آج کی سماعت کے آغاز پر شہباز شریف کے وکیل محمد امجد پرویز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم کو برطانیہ میں اپنے ڈاکٹر سے ملنے جانا ہے اور ملک کے صدر شیخ خلیفہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کا یو اے ای جانا تھا۔ بن زید النہیان انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ذاتی حیثیت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

اس پر فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے شہباز شریف کی ذاتی حاضری لازمی ہے۔ ادھر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ طبی بنیادوں پر عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی مخالفت نہیں کریں گے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں خود کیس کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔

تاہم وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے۔ ضابطے کے مطابق فرد جرم عائد کرنے کے لیے تمام ملزمان کی ہر صورت میں پیش ہونا لازمی ہے۔

دریں اثناء عدالت نے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔

منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

کارروائی کے دوران وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ آشیانہ ریفرنس سے متعلق ریکارڈ آشیانہ اقبال چوکی میں جل کر راکھ ہو گیا تھا اور اس حوالے سے 2017 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ریکارڈ تلاش کرنے کے لیے۔

جس پر عدالت نے سی سی پی او کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی۔

Written by Muhammad Bilal

Subscribe For Daily Latest Jobs