مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اسحاق ڈار۔ – اے پی پی/فائل
  • سابق وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک چلانا ہے ڈکٹیشن لے کر برباد نہیں کرنا۔
  • ڈار کا خیال ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر نہیں پڑنا چاہیے۔
  • کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت گندم پر سبسڈی دے گی جس سے اس کی قیمت دو دن میں کم ہو جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اسحاق ڈار کا خیال ہے کہ حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو فراہم کردہ بیل آؤٹ پیکج پر دوبارہ بات چیت کرنی چاہیے۔

جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ ان کی رائے میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔

شو کے دوران سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی قرض دہندہ پاکستان سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کہہ رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا “مکمل بوجھ” عوام پر نہیں آنا چاہیے۔

ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے پیکج پر “انتہائی سخت شرائط” پر اتفاق کیا تھا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ’’ہمیں ملک چلانا ہے ڈکٹیشن لے کر برباد نہیں کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت گندم پر سبسڈی دے گی جس سے دو دن میں اس کی قیمت کم ہو جائے گی، کے پی حکومت کو بھی قیمت کم کرنی چاہیے۔

ڈار نے کہا کہ پچھلی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملکی ریونیو بڑھانے پر کوئی کام نہیں کیا۔

ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جانتی تھی کہ وہ چل رہی ہے اسی لیے انہوں نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کی۔ انہوں نے پچھلی حکومت کو ڈالر کی آزادانہ منتقلی پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کو برباد کر دیا ہے۔

“مانیٹری پالیسی میں 1 فیصد کمی سے پاکستان کے اربوں روپے کی بچت ہوگی،” سابق وزیر خزانہ رہنما نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2013-18 تک مسلم لیگ ن کی حکومت نے کیش فلو کا انتظام کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ڈالر کی آزادانہ منتقلی سے پاکستان کو 4 کھرب روپے کا نقصان ہوا۔

Written by Muhammad Bilal

Subscribe For Daily Latest Jobs